17

ڈیرہ غازیخان ڈسٹرکٹ اینڈ ٹیچنگ ہسپتال میں زخمیوں کا علاج ڈاکٹر مار پیٹ سے کر نے لگے ٹراما سنٹر میدان جنگ بن گیا

ڈیرہ غازیخان.
(شاهد حسین راجپوت)
ڈسٹرکٹ اینڈ ٹیچنگ ہسپتال میں زخمیوں کا علاج ڈاکٹر مار پیٹ سے کر نے لگے ٹراما سنٹر میدان جنگ بن گیا تفصیل کے مطابق زخمی کے علاج میں عدم توجہی پر ویڈیو بنانے کی کوشش کرنیوالے شہری پرایک ڈاکٹرنے تشدد شروع کیا تو وہاں پر موجود کئی دیگر ڈاکٹر عمر فاروق سمیت سرجن خالد گجر نے تشدد شروع کردیا تو ویڈیو بنتی دیکھ کر ڈاکٹرز غصے میں آگئے۔ایک ینگ ڈاکٹر نے ویڈیو بناتے شہری پر تشدد شروع کیا پھر سرجن خالد گجر سمیت کئی ڈاکٹرز تشدد مارپیٹ کرنے لگے اور ٹراما سنٹر میدان جنگ بن گیا۔نہ صرف یہ بلکہ ڈاکٹرز نے شہری کو محبوس بنا لیا مزید تشدد کرکے زبردستی ویڈیو ڈیلیٹ کرائی گئی۔اپنی غلطی اور تشدد کے مناظر کو چھپانے کے لئے ڈاکٹرز رہنما سی سی ٹی وہ فوٹیج ڈیلیٹ کرانے کے لیے ایک دوسرے کو میسیج کرتے رہے نئے پاکستان میں ڈاکٹروں کا نیا طریقہ علاج لیکن ڈاکٹروں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ٹیچنگ ہسپتال میں ڈاکٹروں کی عدم توجہ پر مریض کے لواحقین کا ویڈیو بنانا جرم بن گیا ویڈیو بنتا دیکھ کر ڈاکٹر غصہ میں آ گئے اور سب ڈاکٹروں نے مل کر تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ اس واقعہ کی سی سی ٹی ویڈیو اور وٹس اپ میڈیا نے حاصل کرلیے۔ڈسٹرکٹ اینڈ ہسپتال میں یہ آئے روز کا معمول ہے بجائے اپنی اصلاح کرنے کے ڈاکٹرز اور ہسپتال انتظامیہ نے اپنی نااہلی اور تشدد چھپانے کےلیے میڈیا پر خود ساختہ پابندی عائد کرتے ہوئے ہسپتال میں صحافیوں کے بلااجازت کوریج کرنے پر پابندی کے باقاعدہ بورڈز لگا دئیے گے ہیں وزیر اعلی پنجاب اور مشیر صحت کے شہر میں واقع اکلوتے ٹیچنگ ہسپتال میں سرجن کراٹے کے داو پیچ سے علاج کرنے میں مصروف عمل ہوگئے گلو بٹوں کے خلاف کون ایکشن لیے گا ڈی جی خان ٹیچنگ ہسپتال میں مریضوں کے ساتھ ساتھ انکے لواحقین کی مرمت بھی کی جاتی ہے احکام بالا اس طر ف توجہ دیں ڈاکٹروں کی شہریوں پر تشدد کی ویڈیو منظر عام پر آنے باوجود ابھی تک ڈاکٹروں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی یہ ایم ایس شاہد مگسی کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے جو ہسپتال کے معاملات کنٹرول کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں