26

کالم استاد کی عظمت تحریر: حافظ امیر حمزہ سانگلہ ہل

استاد کی عظمت
تحریر: حافظ امیر حمزہ سانگلہ ہل
ہم دنیاوی اعتبار سے کوئی بھی چیز دیکھتے ہیں، دیکھنے کے بعد اس چیز کے بنانے والے (یعنی کارگر) کی طرف دھیان جاتا ہے جس سے بنانے والے کی قدر و منزلت کا اندازہ ہو جاتا ہے، اسی طرح ہم اپنے معاشرے میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز اپنے ہی جیسے مرد و خواتین کو دیکھتے ہیں، ایسے ہی ہنر مند افراد کو دیکھتے ہیں کہ جو ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے عروج پر پہنچ جاتے ہیں ۔ ان سب عہدوں اور ہنر مندوں کے پیچھے ایک بہت بڑی ہستی موجود ہے جسے استاد کہتے ہیں۔
اساتذہ کرام کی عزت اور ادب و احترام کے بارے میں امیر المومنین شیر خدا سیدنا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا قول مشہور ہے فرماتے ہیں: ‘‘جس سے میں نے ایک حرف بھی سیکھ لیا اس نے مجھے اپنا غلام بنا لیا ، وہ میرا محسن ہے’’ ۔ اللہ رب العزت نے اپنی پیاری لاریب کتاب قرآن مجید میں پیغمبر انسانیت، معلم انسانیت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا ’’ اے ایمان والو! تم اپنی آواز کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اونچا مت ہونے دو اور آپ ﷺ سے اونچی آواز میں بات نہ کرو، جیسے تم ایک دوسرے سے اونچی آواز میں بات کرتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے عمل برباد ہو جائیں اور تمہیں خبر تک نہ ہو ‘‘۔ (الحجرات:2 ) شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ اس آیت کریمہ کے بارے میں تفہیمات میں لکھتے ہیں ،اپنے استاد کی آواز سے اپنی آواز اونچا کرنا صریحاً ناشائستگی ہے۔
استاد محترم کے احترام کی ایک عظیم مثال دیکھئے ایک مرتبہ شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ کے استاد سید احمد شہیدرحمہ اللہ نے اپنے شیخ استاد محترم شاہ عبد العزیز رحمہ اللہ کے انتقال کی خبر کی تصدیق کے لیے اپنا ذاتی گھوڑا شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ کودے کر دہلی بھیجا کہ کیا واقعی ان کے استاد شاہ عبد العزیز رحمہ اللہ انتقال کر گئے ہیں، شاہ اسماعیل شہید سارے راستے گھوڑے کی باگیں تھامے ہوئے پیدل ہی چلتے رہے اور گھوڑے کی اس زین پر بیٹھنے کی ہمت نہ کی جس پر ان کے استاد بیٹھا کرتے تھے۔ انہی شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنے استاد محترم کی موجودگی میں تقریر نہ کرتے تھے بلکہ خاموش بیٹھے رہتے کہ میرے استاد بیٹھے ہیں ان کے ہوتے ہوئے میں کیا کہہ سکتا ہوں ۔امام سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: میرے باپ نے مجھے وصیت کی پیارے بیٹے! بچپن کا زمانہ اب ختم ہوا ، اب تم سن شعور کو پہنچ گئے ہو، اب پورے طور سے خیر کی طلب یعنی حصول علم میں لگ جاؤ اور ایک ضروری بات کہ اس راہ میں سب سے زیادہ ضروری چیز یہ ہے کہ اہل علم(اساتذہ کرام ) کی اطاعت و خدمت کی جائے ۔ اگر تم ان کی اطاعت و خدمت کرو گے تو علم و فضل سے بہرہ ور ہو گے۔ امام حماد بن سلیمان رحمہ اللہ اپنے عہد کے بڑے محبوب اساتذہ میں سے تھے۔ ان کے ایک شاگر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ہیں،ان کاگھر استاد کے گھر سے سات گلیوں کے فاصلے پرتھا،لیکن شاگرد کا ادب واحترام دیکھیے کہ اپنے استاد محترم کے گھر کی جانب کبھی پاؤں کر کے نہ سوتے کہ کہیں استاد محترم کی توہین نہ ہوجائے اور اسی طرح اگر بعض اوقات دوران درس و تدریس کبھی استاد محترم کا بیٹا آجاتا تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اس کے بھی احترام میں کھڑے ہوجاتے۔
امام زہری رحمہ اللہ جو کہ فن حدیث کے مدون اول ہیں، وہ اپنے استاد کی بے انتہا خدمت کرتے، اسباق شروع ہونے سے پہلے اپنے استاد محترم کا ایک باغ سینچتے اور کنویں سے ڈول بھر بھر کر نکالتے اور یہ عمل ہر روز کر تے۔(تذکرۃ الحفاظ)
اساتذہ کرام، خواہ وہ دینی علوم سے آراستہ کرنے والے ہوں یامختلف علوم وفنون سے آشنا کرنےوالےہوں،سبھی ادب واحترام کے لائق ہیں۔ دینی اور عصری علوم دونوں کی انسان کوضروت رہتی ہے۔اس لیے ان علوم وفنون سے آشناکرانے والے اپنے اساتذہ کرام کاادب واحترام کرنا بے حد ضروی ہے۔
اساتذہ کرام اپنے علم اور تجربے سے ایسے ایسے گر سکھا دیتے ہیں اور وہ کچھ پڑھا اورسمجھا دیتے ہیں کہ اگرخود انسان وہ سفر طے کرکے حاصل کرنے لگے تو اس کی زندگی کا کافی حصہ بیت جائے۔ آج انسانیت جہاں کھڑی ہے وہ اساتذہ کی راہنمائی اور ان کے تجربات اور ایجادات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں تک پہنچی ہے۔ اساتذہ کرام کے ادب واحترام کی ایک جھلک حدیث نبوی ﷺسے بھی ملاحظہ فرمائیں۔ ایک مرتبہ امام الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺکے پاس حضرت جبریل علیہ السلام آئے، آپ علیہ السلام انتہائی صاف ستھرے لباس میں ملبوس ہوکر تشریف لائے اور اس وقت حضرت جبریل علیہ السلام ایک انسان کے روپ میں تھے۔ آپ کے سامنے ادب واحترام سے دوزانو بیٹھ گئے اور آپﷺسے ایمان ،اسلام اور احسان…… کی بابت سوالات کرنا شروع کردیے گویا کہ حضرت جبریل علیہ السلام ایک شاگرد کی حیثیت سے آپﷺ کے پاس آئے اور ہمیں سمجھا گئے کہ جس سے علم حاصل کیا جائے اس کے سامنے ادب واحترام سے بیٹھا جاتا ہے ۔ اسی ادب و احترام میں شاگرد کی بھلائی ہے کہ جس کی بدولت ہم دنیا و آخرت میں ضرور سرخرو ہوں گے ۔ان شاءالله ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں