6

کالم کیا تم کوئی لٹیرے ہو ؟

” کیا تم کوئی لٹیرے ہو ؟ ”

انسان کا حقیقی مستقبل آج کے دن سے ہی شروع ہو جاتا ہے ، کیونکہ آنے والے ہمارے کل کے دن نے آج کے دن کے بدن سے ہی جنم لینا ہوتا ہے ۔ لیکن حیرت ہے کہ انسان اپنے آج کے دن پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے یا تو اپنے ماضی پر کڑھتا رہتا ہے اور یا پھر مستقبل کے لیے صرف ہوائی قلعے ہی تعمیر کرتا رہتا ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اپنے آج کا دن بھی گنوا بیٹھتا ہے ۔ یقین جانیے ! جب انسان کے بہت سارے آج کے دن ضائع ہو جاتے ہیں ، تو آنے والے کل کے دن کی کمزور بنیادوں پر اٹھائی گئی اس کی زندگی کی عمارت بھی ایک نہ ایک دن منہدم ہو جاتی ہے .
سوڈان کے ایک شخص نے اس کے اپنے ساتھ پیش آنے والے دو دلچسپ واقعات بیان کیے ہیں.
“پہلا واقعہ” مجھے آیرلینڈ میں میڈیکل کا امتحان دینا تھا. امتحان فیس 309 ڈالر تھی. میرے پاس کھلی رقم (ریزگاری) نہیں تھی، اس لیے میں نے 310 ڈالر ادا کر دیے. اہم بات یہ کہ میں امتحان میں بیٹھا، امتحان بھی دے دیا اور کچھ وقت گزرنے کے بعد سوڈان واپس آ گیا. ایک دن اچانک آئرلینڈ سے میرے پاس ایک خط آیا. اس خط میں لکھا تھا کہ “آپ نے امتحان کی فیس ادا کرتے وقت غلطی سے 309 کی جگہ 310 ڈالر جمع کر دیے تھے. ایک ڈالر کا چیک آپ کو بھیجا جا رہا ہے، کیوں کہ ہم اپنے حق سے زیادہ نہیں لیتے” حالانکہ یہ بات وہ بھی جانتے تھے ، کہ لفافے اور ٹکٹ پر ایک ڈالر سے زیادہ خرچ ہوئے ہوں گے !!
“دوسرا واقعہ” میں کالج اور اپنی رہائش کے درمیان جس راستے سے میں گزرتا تھا، اس راستے میں ایک عورت کی دوکان تھی ۔ جس سے میں 18 پینس میں کاکاو کا ایک ڈبہ خریدتا تھا. ایک دن دیکھا کہ اس نے اسی کاکاو کا ایک ڈبہ اور رکھ رکھا ہے ، جس پر قیمت 20 پینس لکھی ہوئی ہے. مجھے حیرت ہوئی اور اس سے پوچھا کہ کیا دونوں ڈبوں کی نوعیت (کوالٹی) میں کچھ فرق ہے کیا؟
اس نے کہا : نہیں، دونوں کی کوالٹی یکساں ہے.
میں نے پوچھا کہ پھر قیمت کا یہ فرق کیوں؟
اس نے جواب دیا کہ نائجیریا، جہاں سے یہ کاکاو ہمارے ملک میں آتا ہے، اس کے ساتھ کچھ مسائل پیدا ہو گئے ہیں، جس کی وجہ سے قیمت میں اچھال آ گیا ہے. زیادہ قیمت والا مال نیا ہے، اسے ہم 20 کا بیچ رہے ہیں اور کم قیمت والا پہلے کا ہے، اسے ہم 18 کا پیچ رہے ہیں. میں نے کہا، پھر تو 18 والا ہی خریدیں گے ۔ جب تک یہ ختم نہ ہو جائے؟ 20 والا تو اس کے بعد ہی کوئی خریدے گا. اس نے کہا: ہاں، یہ مجھے معلوم ہے.
میں نے کہا ، کہ ان دونوں ڈبوں کو مکس کر دو اور 20 کا ہی بیچو. کسی کے لیے قیمت کا یہ فرق جاننا مشکل ہوگا. اس نے میرے کان میں پھسپھساتے ہوئے کہا : کیا تم کوئی لٹیرے ہو؟؟
مجھے اس کا یہ جواب عجیب لگا ، اور میں آگے بڑھ گیا.
لیکن یہ سوال آج بھی میرے کانوں میں گونج رہا ہے کہ کیا میں کوئی لٹیرا ہوں؟
یہ کون سا اخلاق ہے؟
دراصل یہ ہمارا اخلاق ہونا چاہیے تھا ۔ یہ ہمارے دین کا اخلاق ہے ۔ یہ وہ اخلاق ہے جو ہمارے نبی نے ہمیں سکھایا تھا، لیکن ۔۔۔ اپنی ایمانداری سے بتائیں کیا ہم لٹیرے نہیں؟
جگاڑ میں حلال و حرام تک کو ایک ہی گاڑی سے روندتے چلے جاتے ہیں ۔
آپ کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے جاگیردار جب اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں ، تو کیسے کیسے کارنامے کرتے ہیں ۔ اس کی ایک تازہ مثال پیش خدمت ہے ؛ محترمہ سبیل گل خان ، خواتین کی مخصوص نشست پر تحریک انصاف کی طرف سے ایم پی اے منتخب ہوئی ہیں ۔ دو ماہ قبل اس کا بچہ بیمار ہوا ، تو ملتان کے چلڈرن ہسپتال پہنچ گئی۔ وہاں جا کر سیدھی ہاسپٹل کے ایم ایس کے پاس گئی اور اپنے بچے کیلئے سپیشل ٹریٹمنٹ کا حکم جاری کردیا۔ ایم ایس نے اسے ڈپٹی ایم ایس ڈاکٹر شاہد کے پاس بھیجا۔ڈاکٹر شاہد نے خاتون ایم پی اے کو پندرہ منٹ انتظار کے بعد سینئر ڈاکٹر سعدیہ خان کے پاس بھیج دیا۔ ڈاکٹر سعدیہ، بقول ایم پی اے وہاں بیٹھی کسی کے ساتھ خوش گپیاں کررہی تھی اور اس نے ایم پی اے کے بچے کو فوری طور پر دیکھنے سے انکار کردیا اور کہا کہ وہ ایک مریض کو دیکھ رہی ہے، اسلئے انتظار کریں ۔ ایم پی اے نے اپنا تعارف کروایا ، تو ڈاکٹر سعدیہ نے کہا کہ وہ کسی ایم پی اے کو نہیں جانتی، وہ اپنی ڈیوٹی کررہی ہے۔ ایم پی اے یہ سن کر ششدر رہ گئی اور بے بسی کا اظہار کرتی واپس آئی، اسمبلی میں جا کر تحریک استحقاق پیش کی کہ ڈاکٹر کی اتنی جرات کہ اس نے سب کام چھوڑ کر ایم پی اے کے بچے کو فوری طور پر دیکھنے سے انکار کردیا۔ اس تحریک استحقاق کی تمام جماعتوں کے ایم پی ایز نے حمایت کی ۔نتیجے کے طور پر پنجاب حکومت کی طرف سے چلڈرن ہسپتال کے ڈی ایم ایس ڈاکٹر شاہد کو فوری معطل کردیا گیا۔ یہاں چند ایک بنیادی سوالات یہ ہیں کہ
1۔ یہ استحقاق اراکین اسمبلی کا ہی کیوں ہے کہ ان کے بچوں کو فوری طور پر ہسپتال کے سب سے بہترین ڈاکٹرز آ کر دیکھیں۔ جو عوام ان جاگیرداروں کو منتخب کرتے ہیں، ان عوام کو یہ استحقاق کیوں نہیں دیا جاتا؟
2۔ ایم پی اے جب ہسپتال گئی تو وہ سیدھی ایم ایس سے ملنے کیوں گئی؟ کیا اس لئے کہ وہ جانتی تھی کہ اس کے بچے کو فوری طور پر شاید طبی سہولیات نہ مل سکیں ۔ اگر ایسی بات تھی تو اس نے عوام کی خاطر اسمبلی میں آواز کیوں نہ اٹھائی؟
3۔ ہسپتال کے ایم ایس نے ایم پی اے سے ملاقات کیوں کی؟ کیا یہ سہولت عام عوام کیلئے بھی ہے ، کہ کوئی بھی مریض اگر چاہے تو ایم ایس سے مل کر خصوصی علاج کی درخواست کرسکتا ہے؟ اگر نہیں تو پھر ایم پی اے کیلئے یہ رعایت کیوں نکالی گئی؟
4۔ عثمان بزدار نے وزارت اعلی کیا اراکین اسمبلی کے استحقاق کے تحفظ کیلئے حاصل کی تھی یا عوام کو سہولیات کی بہتر فراہمی کیلئے؟
5۔ عمران خان نے تبدیلی کا وعدہ کیا ، اس قسم کے جاگیرداروں کی بنیاد پر کیا تھا؟ محترمہ سبین گل خان مخصوص نشست پر کامیاب ہوئی تھی، وہ کوئی الیکٹیبل نہیں تھی کہ اس کے نخرے اٹھائے جاتے۔ اسے پارٹی کی مخلص کارکن کی وجہ سے شاید ٹکٹ دی گئی۔ اگر پارٹی کے مخلص اراکین کا یہ حال ہے تو بھاڑ میں جائے ایسی پارٹی ۔ ہماری قسمت میں ایسے سیاستدان ہی کیوں لکھ دیئے گئے جو ایک سے بڑھ کر ایک جاگیردار ہیں۔ اب عوام کو بھی چاہیے کہ ان جاگیردار سیاستدانوں کی چاکری چھوڑ کر اپنے استحقاق کیلئے آواز خود اٹھائیں !!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں