12

چنیوٹ ضلع میں ترقیاتی کام سست روی کا شکار بڑے میگا پروجیکٹ پر دس سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود کام شروع نہ ہو سکا

چنیوٹ(ملک صدیق حیدرمصطفاٸی) ضلع میں ترقیاتی کام سست روی کا شکار بڑے میگا پروجیکٹ پر دس سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود کام شروع نہ ہو سکا شہریوں میں مایوسی کی لہر تفصیلات کے مطابق پنجاب کا 36واں ضلع چنیوٹ اس وقت بہت سے  مسائل کا شکا ر ہے حکومتی عدم توجہ کے باعث دس سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ابھی تک چنیوٹ ضلع میں ڈسٹرکٹ کمپیلکس نئے ڈی ایچ کیو کی تعمیر پولیس لائن نوجوانوں کیلئے کھیلوں کے سٹیڈیم اور چاروں ہائی ویز روڈ  ون وے کر کے بنانے کے منصوبہ پر کام شروع نہ ہو سکا ستم ظریفی کی بات ہے کہ حکومت نے چنیوٹ کو ضلع تو بنا دیا مگر ہر آنے والی حکومت نے چنیوٹ ضلع کو مسلسل نظر انداز کیا سابقہ ادووار حکومت میں سرگودھا فیصل آباد روڈ ون وے بنانے کیلئے کروڑوں روپے کا فنڈ مختص کیا گیا جو کہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے لاہور میں میٹرو، اوورنج ٹرین کے منصوبہ پر لگا دیا دو مرتبہ یہ فنڈ منظور ہوا مگر اس علاقہ کے ممبران صوبائی اسمبلی کی نا اہلی کی وجہ سے یہ فنڈ لاہور میں لگا دیا گیا ابھی تک چنیوٹ ضلع میں مختلف سرکاری محکموں کے پاس اپنی عمارت نہیں بلکہ وہ کرائے پر لے کر دفتر بنائے بیٹھے ہیں جبکہ سرکاری کوارٹروں کی بے حد کمی کی وجہ سے کوئی بھی افسر چنیوٹ ضلع میں آنے کو تیار نہیں چنیوٹ میں نوجوانوں کیلئے کوئی کھیلوں کا سٹیڈیم موجود نہیں جس کے باعث نوجوان نسل مایوسی کا شکار ہو رہی ہے دوسری طرف ضلعی انتظامیہ کی کوئی خاص پلاننگ نہ ہونے کی وجہ سے اندرون شہر میں لوگوں کا پیدل چلنا محال ہوا پڑا ہے بے ہنگم ٹریفک اور ناجائز تجاوزات کی بھر مار ہے شہری و دیہی آبادی میں اضافے کے باعث ضلعی انتظامیہ اس حوالے سے بھی کوئی پلان تشکیل نہ دے سکی شہری و سماجی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ چنیوٹ کی عوام کے ساتھ ہونے والے ظلم و زیادتیوں کا ازالہ کرے اور چنیوٹ ضلع میں فوری طور پر رکے ہوئے میگا پروجیکٹ پر کام شروع کئے جائیں 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں