17

کالم تعویز پروگرام کیسا رہے گا

تعویز پروگرام کیسا رہے گا
قارئین کرام آج میرا موضوع وہ سرکاری کالج اور سکول ہیں کہ جن کے نئے پاکستان میں بھی نتائج مایوس کن سے بڑھ کر کچھ نہیں۔جی ہاں بالکل انہی اداروں کی بات کررہا ہوں کہ جن کا مقصد غریبوں کے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ہے۔انہی اداروں کی بات کر رہا ہوں کہ جن کا مقصد مستقبل کے معماروں کی روحانی پرورش کرنی یے۔قارئین کرام انسان کی روح کی پرورش اسکول اور کالج میں ہوتی انسان نے کیسا اخلاق اپنانا ہے کیا کرنا ہے کیسے بولنا ہے۔کہاں چلنا ہے اور کس نے روکنا ہے تو رکنا ہے۔مطلب کہ روحانی پرورش اساتذہ کرام کرتے ہیں۔لیکن افسوس صد افسوس کہ عمران خان صاحب جو کہ کرکٹ میں پاکستان کے ہیرو ہیں کی حکومت ہے کپتان کی حکومت ہے اور نجانے کتنے گھرانے کے سربراہان اس وقت سر جوڑ کے بیٹھے ہیں کہ بچے پہ اتنی محنت کی۔سرکار سے اتنی توقع تھی لیکن پھر یوں ہوا کہ توقع خاک نشیں ہوگئی۔کچھ بھی نہ رہا بچہ فیل ہوگیا۔قارئین حال ہی میں فرسٹ ائیر کے نتائج کا اعلان ہوا ہے۔میری تحصیل میں ایک نجی کالج مثالی سائنس کالج نے تحصیل میں پہلی جبکہ ضلع جھنگ میں نمایاں پوزیشن حاصل کی۔اور قابل ستائش بات یہ ہے کہ ایسے علاقے میں ہوتے ہوئے کہ جہاں پر لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں۔جی ہاں بالکل ضلع جھنگ کے علاقے روڈوسلطان میں موجود یہ کالج مستقبل کے معماروں کی روحانی پرورش میں مصروف ہے۔پرنسپل اور سٹاف کی سخت محنت کے نتیجے میں رواں سال ایک بار پھر سابقہ روایت دہرائی اور تحصیل میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔یہ وہ کالج ہوتے ہیں کہ جہاں پر اساتذہ کو کوئی سرکاری پنشن نہیں دی جاتی۔اساتذہ کو یہ لالچ نہیں ہوتا کہ کل کو ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن بنے گی۔اساتذہ صرف اور صرف بچوں کے مستقبل کی خاطر جوش و ولولے سے پڑھاتے ہیں۔قارئین مجھ ناچیز کو بھی اس نجی کالج میں زیر تعلیم ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔اور مجھ میں لکھنے کا شوق بھی اسی کالج سے پیدا ہوا۔لیکن اس نجی کالج نے تو اپنا حق ادا کردیا اور کرتا رہے گا۔کیا سرکاری کالجوں سے کوئی پوچھنے والا ہے۔کیا وزیر تعلیم پنجاب کو معلوم نہیں کہ اس دفعہ سرکاری کالجوں کے نتائج کس قدر افسوسناک آئے ہیں۔بہت ہی افسوس کیساتھ اور اپنے تحصیل کے دوستوں سے معذرت کے ساتھ کہ مجھے بحثیت ایک شہری گورنمنٹ ڈگری کالج اٹھارہ ہزاری کے فرسٹ ائیر کے مایوس کن نتائج سے بہت ہی افسوس ہوا اور یہ صرف میرے لیے نہیں بلکہ تحصیل سے محبت کرنے والے ہر ایک شخص کے لیے دکھ کی بات تھی کہ ڈگری کالج کے نتائج کی شرح 25.35 جی ہاں بالکل صرف پچیس فیصد ادارے میں زیر تعلیم 430 بچوں نے امتحانات میں حصہ لیا لیکن مجھے رزلٹ دیکھ کر یقین نہ آیا کہ 321 طلباء فیل جبکہ 109 پاس ہوسکے۔کیا ہمارے سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت زار اس قدر بڑھ چکی ہے کہ ہر تین فیل طلباء کے بعد ایک طالب علم پاس ہوسکا۔میرے کپتان کہاں ہیں آپ۔۔۔میں مانتا ہوں کہ آپ کرکٹ سے سیاست میں آئیے ہیں آپ کو اتنا تجربہ نہیں لیکن چلیں شہباز شریف کے نعرے پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب ہی کی لاج رکھ لیں۔عمران خان صاحب عوام نے نجانے کتنی امیدیں لگا کر آپ کو ووٹ دئیے۔لیکن وہ ایک کروڑ نوکریاں،پچاس لاکھ گھر،اور پٹرول سستا کرنے کے دعویدار میرے کپتان میری تحصیل کے طلبا آپ کو پکار رہے ہیں کہاں ہیں آپ۔وزیر تعلیم جناب مراد راس صاحب کیا آپ ان سرکاری کالجوں سے ناکامی کی وجہ پوچھنے کی زحمت کرسکتے ہیں۔عمران خان صاحب عوام نے آپ پر اعتماد کیا آپ کو وزیراعظم بنایا۔اگر آج آپ وزیراعظم کے عہدے پر ہیں تو صرف عوام کے ووٹوں سے۔اٹھارہ ہزاری کے لوگ بھی،ان طلباء کے والدین جب نتائج دیکھ کر مایوس ہوئے ہونگے تو ان کے لبوں سے ایک دفعہ تو یہ الفاظ نکلے ہونگے کہ میرے کپتان کہاں ہیں آپ۔میرے کپتان میں نے اسی لیے ایک نجی ادارے کا ذکر شروع میں کیا کہ ماشاءاللہ وہ ادارہ بھی اسی علاقے میں ہے۔عمران خان صاحب میں ایک ایک شہری ہونے کے ناطے آپ سے اپیل کررہا ہوں کہ ایسے سرکاری اسکولوں اور کالجوں کی کارکردگی بہتر بنائیں۔یہاں کے اساتذہ کرام تو پرائیویٹ اساتذہ کو تقریباً استاد کہنا بھی میرے خیال میں توہین سمجھتے ہیں لیکن جب نتائج کا اعلان ہوتا ہے تو نجی کالج بازی لے جاتے ہیں۔عمران خان صاحب ڈاکٹر عبدالسلام اسی جھنگ کا فرزند ہے اور نجانے کتنے ڈاکٹر عبدالسلام سرکاری اداروں میں مایوسی کیساتھ پڑھائی جاری رکھے ہوئے ہیں نجانے کتنے علیم ڈار،طاہر القادری خاموش ہیں۔الیکشن سے پہلے تو تعلیم کے شعبے کو بہتر بنانے کے بلند و بالا دعوے کیے تھے۔اب ان دعوؤں کو سچ کرنے کا وقت بھی ہوا چاہتا ہے۔کب تک خان صاحب آخر کب تک تعلیم کیساتھ کھلواڑ ہوتا رہے گا۔کب تک جھنگ کے ساتھ یہ تماشا جاری رہے گا۔میرے قابل عزت بھائی فیصل حیات جبوانہ صاحب آپ نے اپنے والد کی روایت برقرار رکھتے ہوئے حلقے میں ترقیاتی کام شروع کروائے ہیں۔آپ کی محنت و لگن کو میں خراج عقیدت پیش کرتا ہوں لیکن میں ایک ادنی سی اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ خدارا وزیر تعلیم سے اس موضوع پہ بات کریں۔آپ عوامی نمائندے ہیں اور بے شک آپ نے ثابت کردکھایا۔ہمیں آپ سے بہت امیدیں ہیں
آخر میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ عمران خان صاحب اگر یہ کالج ٹھیک نہیں ہوسکتے تو ان میں تعویز پروگرام کا افتتاح کردیں۔ایک ایک عامل بنگالی بٹھا دیں کہ جو ایک ایک تعویز پہ بچوں کو کامیاب کراتا جائے۔اگر خاتون اول کے تعویزات سے آپ وزیراعظم بن سکتے ہیں تو سرکاری کالجوں کے حوالے سے میرا مشورہ کیسا رہے گا۔۔۔۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں