12

کالم مجھے ختمِ نبوتؐ سے عشق ہے تحریر:محمدمعظم جوئیہ

“مجھے ختمِ نبوتؐ سے عشق ہے”

تحریر:محمدمعظم جوئیہ

1898 میں مرزا قادیانی نے منٹو پارک میں ایک جمِِّ غفیر کی موجودگی میں مینار پاکستان والی جگہ پر اسٹیج لگایا اور بار بار اعلان کر رہا تھا کہ اگر وہ نبوّت کے دعوے میں جھوٹا ہے تو اسے اس اسٹیج سے در بدرکردیا جائے لیکن جو مسلمان بھی یہ کوشش کرتا ناکام رہتا.
حضرت پیر سید مہر علی شاہ گولڑوی (علیہ الرحمۃ) اتفاقًا جامعہ نظامیہ بازار حکیماں لاہور میں تھے. قبلہ عالم کی خدمت میں یہ ساری صورت حال بیان کی گئی تو آپ نے مرزا قادیانی کے مقابلے میں آنے کی ٹھانی اور منٹو پارک روانہ ہو گئے اور اسٹیج پہ کھڑے ہو کر فرمایا کہ
“یہ شخص نبی ہونے کا دعویدار ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل ِخاص سے جناب رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس غلام ابن غلام ابن غلام کو اپنی ولایت سے سرفراز فرمایا ہے، نبی کا درجہ ہر حال میں ولی سے بالاتر ہوتا ہے میں اس شخص سے چار سوال کرتا ہوں مرزا قادیانی ان سوالات کا جواب دے اور اپنی صداقت کا ثبوت دے ورنہ پھر میں اس کی تردید کرنے کی غرض سے بفضلِ باری تعالٰی ان سوالات کا جواب دوں گا –
۱- مرزا قادیانی حکم دے کہ دریائے راوی اپنا موجودہ رخ تبدیل کرکے فی الفور اس پنڈال کے ساتھ ساتھ بہنا شروع کر دے یا میں ایسا کر دکھاتا ہوں-
۲- ایک نہایت پاکباز کنواری لڑکی کو پنڈال کے نزدیک چوطرفہ پردہ میں رکھ کر مرزا قادیانی دعا کرے کہ بغیر مرد کے اختلاط کے اللہ کریم اس لڑکی کو اسی جگہ پر ایک لڑکا دے جو اس کی نبوّت یا میری ولایت کی تصدیق کرے-
۳- اپنے لعابِ دہن سے باہر کڑوے پانی کے کنویں کو میٹھا کر دے یا پھر میں کر دیتا ہوں-
۴- وہ مجھے شیر بن کر کھا جائے یا میں اسے کھا جاتا ہوں.
سرکار (رحمتہ اللہ علیہ) کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکل رہے تھے کہ گردن سے شیر کے بال نمودار ہونے لگے لیکن آپ کے ساتھ کھڑے ایک بزرگ نے فوراً آپ کی گردن مبارک پہ ہاتھ رکھ کر کہا کہ سرکار….. شریعت شریعت !!
اس پہ آپ (رحمتہ اللہ علیہ) اپنی اصل حالت میں آ گئے مگر اسی دوران مرزا قادیانی اسٹیج چھوڑ کر بھاگ گیا.
بعد میں سرکار اس واقعہ کے یاد آنے پہ فرماتے اگر مولوی صاحب نے مجھے روکا نہ ہوتا تو میں اسے تحت الثریٰ میں بھی ڈھونڈ کر ختم کر دیتا مگر اللہ کی مرضی یہ نہ تھی آپ نے فرمایا کہ دراصل اسکے پاس تین جِنّ تھے جو اسکے مُقابل بولنے والے کی زبان پکڑ لیتے تھے مگر اللہ کے فضل سے وہ مجھ پہ حاوی نہ ہو سکے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں