5

وزیر اعظم نے ”کامیاب نوجوان پروگرام“کا افتتاح کردیا، ایک لاکھ تک قرض بلاسود دینے کا اعلان

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ نوجوانوں کوایک لاکھ تک کا قرضہ بلاسود دیا جائے ، 100ارب میں سے 25فیصد قرضے خواتین کیلئے ہونگے جبکہ اقلیتوں کو بھی کوٹہ دیا جائے گا ، نیا پاکستان بناناہے تو حکومت ایک طرف کوشش کرے گی اور عوام دوسری طرف پھر ہم مل کرنیا پاکستان بنائیں گے ۔

اسلام آباد میں ”کامیاب نوجوان پروگرام “کی افتتاحی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ میں کامیاب نوجوان پروگرام پوری طرح ہوم ورک کے ساتھ شروع کرنے پر عثمان ڈار کومبارکباد دیتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام میں سب سے اہم چیز میرٹ ہے ، میں اس پروگرام کوسامنے لانے سے پہلے دوتین باتیں کروں گا ، دنیا میں صرف وہ قومیں آگے بڑھتی ہیں جن میں میرٹ کا نظام بہتر ہوتا ہے ، ریاست مدینہ کے بعد مسلمان دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور ہزار سال تک رہے لیکن پھر مسلمان پیچھے رہ گئے اور مغرب آگے نکل گیا ۔ انہوں نے کہا کہ شاہ ولی اللہ اور علامہ اقبال نے بتایاتھا کہ مسلمانوں کے پیچھے رہ جانے کی وجہ بادشاہت کی طرف جانا ہے جبکہ مغرب جمہوریت کی طرف چلا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ جتنی اچھی جمہوریت ہوگی ، اتنا اچھا میرٹ ہوگا ، جمہوریت آگے جانے کیلئے سب سے اچھا میرٹ ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد قائد اعظم نے کہا تھا کہ میرٹ کواوپر لے کر آنا اور کرپشن سے بچنا ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کے برے حالات ہونے کی وجہ میرٹ نہ ہونا اور کرپشن کونہ روکناہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم میرٹ کولیکر آرہے ہیں اور کرپشن پر قابو پارہے ہیں، نوجوان میری باتیں ساری زندگی یاد رکھیں ، یہ میری ساری زندگی کا تجربہ ہے ، وہ انسان دنیا میں کامیاب ہوتاہے جس کی سوچ اور خواب بڑے ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سب کو یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ بڑے خواب اور بڑی سوچ رکھیں ، بڑا انسان وہ ہوتاہے جواپنی سوچ اور ذات سے باہر نکل آتاہے ۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ دنیا کی تاریخ میں بڑے بڑے لوگ آئے دنیا کسی ایک آدمی کوبھی یاد نہیں رکھتی ہے ، امیر آدمی مرتا ہے تو اس کے بچے بھی بھول جاتے ہیں دنیا کوتو چھوڑدیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اس کویاد رکھتی ہے جوانسانیت کے لئے کام کرکے جاتاہے ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے سو بڑے انسانوں میں ہمارے نبیﷺ پہلے نمبر پر ہیں۔ قرآن میں آتاہے کہ حضور ﷺ کی زندگی سے سیکھو،آپ ﷺکو اللہ نے اپنا حبیب کہا اور کہا کہ ان کی زندگی سے سیکھو۔ عمران خان نے کہا کہ جب میں کرکٹ میں آیا تو بہت سے بڑے بڑے لوگ موجود تھے اوراب بھی ہیں بل گیٹس وغیرہ لیکن یاد رکھیں کہ کوئی شخص ہمارے نبیﷺکے پیروں کی مٹی کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا ۔آپ نے بڑا انسان بنناہے تو آپﷺ کی زندگی سے سیکھو، میں کیوں کہتا ہوں کہ کوئی ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا؟ جنگ بدر ہوتی ہے تو 313مسلمان ہیں اور ان کے پاس تلواریں بھی نہیں تھیں ، صرف 11سال بعد وہی مسلمان ہیں جن کے سامنے جنگ یرموک میں رومی جو اس وقت کی سپر پاور تھے گھنٹے ٹیک دیتے ہیں اور دوسال بعد ایران بھی مسلمانوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتا ہے ، کبھی کسی نے سناہے کہ 13سال میں کہیں اتنا بڑانقلاب آیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ نبیﷺنے مسلمانوں کا کردار ایسابنایا کہ انڈونیشیا اور ملائشیا میں مسلمان تاجروں کودیکھ کر لوگ مسلمان ہوگئے ۔

انہوں نے کہا کہ نیا پاکستان بناناہے تو حکومت ایک طرف کوشش کرے گی اور عوام دوسری طرف کوشش کرے گی پھر ہم نے مل کرنیا پاکستان بنانا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پہلے دن مدینہ کی ریاست نہیں بن گئی تھی ،تبدیلی آہستہ آہستہ آتی ہے ، پہلے ذہنوں میں تبدیلی آتی ہے ، پھر زمین پر تبدیلی آتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان سب سے عظیم انسان ﷺ کورول ماڈل بناکر بڑی سوچ رکھیںجب نبیﷺ دنیا سے گئے تو اس کے 30سال بعد مسلمان دنیا پر چھا گئے حالانکہ ان کے پاس کوئی جدید ہتھیار نہیں تھے ۔ انہوں نے کہا کہ چنگیز خان اور انگریزوں نے بھی فتوحات کیں لیکن ان کے پاس جدید ٹیکنالوجی تھی لیکن حضرت محمد ﷺ نے چھوٹے انسان بدل دیئے ، حضرت بلال ؓ کوجرنیل بنا دیا ، وہ بار وہ لشکر کے سالار بنائے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ نبیﷺ پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ میں اپنی عادتیںبدل نہیں سکتا کوئی ایک عادت بتادیں جو بدل لوں تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ سچ بولا کرو۔ انہوں نے کہا کہ اب تاجر کہتے ہیں کہ ہم کو پینے کا صاف پانی بھی چاہئے ، تعلیم بھی چاہئے ، سہولتیں بھی چاہئے لیکن ٹیکس نہیں دینا ۔ انہوں نے کہا کہ خود مختار قوم بننے کیلئے ٹیکس دینا پڑتاہے ، بھیک مانگ کر قوم نہیں بنتی ، جوایماندار ہے وہ ٹیکس دیتا ہے اور دونمبر بڑا نفع کماتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں ابھی آہستہ آہستہ چل رہا ہوں ، ٹیکس دینا پڑے گا ۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں تم نے بڑی سوچ رکھنی ہے جوقرضے تم کودیئے جائیں گے ، ان کیلئے چھوٹی سوچ نہ رکھنا جوبڑی سوچ رکھتاہے ، وہ ہی بڑابنتاہے ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے سو ارب روپے کے قرضے رکھے ہیں جن میں سے 25ارب روپے کے قرضے صرف خواتین کیلئے ہونگے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک لاکھ کاقرضہ سود کے بغیر دیا جائے گا ۔ ایک لاکھ سے پانچ لاکھ تک قرضے رعایت پر دیئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ 5لاکھ سے 50لاکھ تک قرضے بھی دیئے جائیں گے ۔ یہ قرضے میرٹ پر دیئے جائیں گے ، یہ تحریک انصاف کیلئے مخصوص نہیں ہونگے ، ہم سب کومیرٹ پر قرضے دینگے ، فضل الرحمان کے لوگوں کوبھی قرضے دینگے اگر وہ میرٹ پرآئے، ہم دس لاکھ نوجوانوں کوقرضے دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ مجھے پتہ ہے کہ یہ پہلی اسمبلی ہے جوڈیزل کے بغیر چل رہی ہے ۔ہمارے نوجوان ہماری بہت بڑی طاقت ہیں لیکن بدقسمتی سے ہنر مند نہیں ہیں ، ان کوہنر سکھانے کیلئے ہم نے فیصلہ کیاہے کہ ہم دس ارب روپیہ نوجوانوں کو ہنر سکھانے کیلئے خرچ کریں گے ، ایک لاکھ نوجوانوں کوہنر مند بنایا جائے گا اور 25ہزار نوجوانوں کو اپرنٹس شپ دی جائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پانچ سو سکلز لیبارٹریز مدرسوں کے اندر بنانے کافیصلہ کیاہے ۔ یہ پہلی حکومت ہے جس نے فیصلہ کیا ہے کہ مدرسوں کے بچوں کوہم نے اپنا بچہ سمجھنا ہے ، ہم نے ان کودینی تعلیم کے علاوہ سائنس بھی پڑھانی ہے ، یہ جومرضی بنناچاہیں بن جائیں، ڈاکٹر ، انجینئر ز ، جنرلز ، ہم چاہتے ہیں کہ تعلیم کا ایک نظام سارے پاکستان میں آئے ۔ انہوں نے کہا کہ دوہزار اساتذہ کو تربیت کیلئے باہر بھیجا جائے گا تاکہ وہ باہر سے ہنر سیکھ کر بچوں کو تعلیم دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سارے پاکستان کے لئے ایک فاﺅنڈیشن بنائیں گے تاکہ ہمارے نوجوان ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ رکھ سکیں جس سے پتہ چلے کے نوکری کہاں ہے اور کیا صورتحال جارہی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میں اس پروگرام کو وزیر اعظم ہاﺅس سے مانیٹر کروں گا ۔ ہمارے جو رول ماڈل ہیں ،ان کورحمت العالمین کہا جاتا تھا لیکن ہم نے اقلیتوں کوبرابر کا شہری نہیں رکھا لیکن اب نیا پاکستان بنے گا اور ہم اقلیتوں کوبرابر کے حقوق دیں گے اور ان کو محروم نہیں کریں گے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے انصاف اورہرے پاکستان کا جوفیصلہ کیاہے ، اس میں ہم ہرجگہ نوجوانوں کو ممبر بنائیں گے ، جن نوجوانوں کو اچھے اچھے آئیڈیا ز آتے ہیں ، اس کی بزنس شروع کرنے میں مدد کریں گے اور نوجوانوں کوصنعتوں میں انٹرن شپ کروائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ زندگی میں آپ جتنا اوپر جائیں گے اس کا انحصار اس پر ہوگا کہ مشکل وقت کا آپ کیسے سامنا کرتے ہیں؟ میں بہت اونچ نیچ دیکھی ہے لیکن چیمپین وہ ہوتا ہے جو جیت کو سنبھالتا نہیں ہے کیونکہ جب آپ جیتے ہیں تو دشمن بھی تالیاں بجاتے ہیں لیکن جب ہارتے ہیں تو گھر والے بھی منہ دوسری طرف کرلیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنے ساتھیوں کوبتایا کرتا تھا کہ جب ہارتے ہوتو اگلے دن اخبار نہ پڑھو اور دوسری چیز کہ کبھی بھی ہار کرکسی شادی پر نہ جایا کروکیونکہ اس طرح آپ کے رشتہ داروں کوبڑی خوشی ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہار آپ کوسکھاتی ہے ، براوقت آپ کوسیکھنے کا موقع دیتاہے ، آپ اتنا اوپر جائیں گے جتنا آپ اپنی غلطیوں کا جائزہ لے سکیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی برا وقت آتاہے ، وہ آپ کوسکھاتاہے جوبھی کوشش کرنا سیکھ جاتاہے پھر ہار اس کو ہرا نہیں سکتی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں