5

وزیراعظم کا استعفیٰ ناممکن بات،اپوزیشن کا ایجنڈا پاکستان ہے تو مذاکرات کی میز پر بیٹھے :پرویز خٹک

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)وزیر دفاع اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ اگر اپوزیشن  والے ساتھ نہیں  بیٹھتے تو اس کا مطلب ہے کہ ان کے دل میں چور ہے ، ایجنڈا کچھ اور ہے اگر ایجنڈا پاکستان  ہے تو بات کرنا پڑے گی،اگر ایجنڈا ملک دشمنی اور مودی کو خوش کرنا ہے تو  بات نہیں کریں گے، وزیراعظم کا استعفیٰ ناممکن بات ہے اس کا مطلب ہے کہ یہ چڑھائی کرنا چاہتے ہیں ،افراتفری  ہوئی تو ذمہ داری  ان پر ہوگی،ن لیگ ، پی پی، اے این پی سمیت ہر  جماعت کے سینئر لیڈروں سے رابطے میں ہیں اور ہمیں  اچھا  رسپانس ملا  ہے،ملکی مفاد کیلئے اپوزیشن جماعتوں کے پاس چل کر جائیں گے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پرویز خان  خٹک نے کہا کہ ہم اب بھی تمام اپوزیشن  جماعتوں سے کہتے ہیں کہ وہ آئیں  اور بات کریں، اگر آپ کے پاس  کوئی ایشو یا مطالبہ ہے ہمیں بتائیں، ہم جمہوری لوگ ہیں، اگر کوئی جائز مطالبہ  ہوا تو ضرور مانیں گے،مل بیٹھ کر ہی مسائل حل  ہوتے ہیں، اگر آپ بیٹھیں  گے نہیں، مطالبہ نہیں بتائیں گے تو پھر افراتفری ہوگی، اگر آپ  ہمارے  ساتھ نہیں بیٹھتے، بات نہیں کرتے تو  کم ازکم ہم اپنا فرض  ادا کرچکے ہوں گے، اگر حالات خراب ہوئے ملک کو کوئی نقصان  پہنچا پھر تمام تر ذمہ داری انہی  کی ہوگی،پھرہم  سے کوئی گلہ نہ کیا جائے،پھر حکومت نے آئین و قانون کے مطابق فیصلے  کرنے ہیں، سب کو برداشت کرنا پڑے گا ،اگر کوئی ہمارے ساتھ بات ہی نہیں کرتا تو اس کا مطلب ہے ان کاایجنڈا کوئی اور ہے؟اس وقت حالات ایسے ہیں ملک کسی افراتفری  کا متحمل نہیں ہوسکتا، کشمیر کن حالات میں ہے؟لوگوں  پر ظلم و زیادتیاں ہورہی ہیں، حکومت کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے، اپوزیشن نے کشمیر ایشو پس پشت ڈال دیا ہے، کشمیر ایشو  دبانے کیلئے ایجنڈا بنایا گیا ہے ،پیپلزپارٹی ن لیگ ، اے این پی ، جمعیت علماء اسلام  سب کو ہم نے اپنا پیغام پہنچایا ہے کہ آئیں اور میز پر بات کریں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں  امید ہے کہ یہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر بات کریں گے اور جو ایشو ہوگا پاکستان کے حق میں ہوگا اور پاکستان کیلئے  ہوگا، ہم ہر قربانی  دینے کو تیار ہیں، اگر کوئی  یہ سمجھتا ہے کہ ہم نے گھبرا کر کمیٹی بنائی ہے تو  یہ اس کی غلط فہمی ہے،یہ جمہوری اقدار ہیں اور ہم جمہوری لوگ ہیں، ہم نے ساری زندگی جلسے جلوس دیکھے ہیں، ہمیں اپنی  نہیں پاکستان کی فکر ہے،اگر کسی کی جان کو نقصان  پہنچتا ہے اور کاروبار تباہ ہوتے ہیں تو اس کا ازالہ کون کرے گا ؟ ہم نے اپنے تمام کارڈ اوپن کردئیے ہیں ، اگر بات نہیں بنتی  تو پھر حکومت نے وہی فیصلے کرنے ہیں جس سے ملک میں ڈیڈ لاک  نہ ہو ، حکومت نے ہر حال میں اپنی عملداری قائم رکھنی ہے۔

پرویز خان خٹک نے کہا کہ حکومت صرف عمران خان نہیں بلکہ ریاست کا نام ہے، اس کا ایک نظام ہے،اگر کوئی نظام خراب کرنا چاہتا ہے تو اس کو اسی طرح جواب ملے گا،اگر آپ انڈین   ٹی وی چینل کھولیں  تو ایسا لگتا ہے یہ انہی کے ایجنڈے پر کام ہورہا ہے،انڈیا  خوش ہورہا ہے کہ پاکستان میں افراتفری  پھیل گئی ہے،میری درخواست ہے افراتفری  سے بچنے اور حالات بہتر کرنے کیلئے مل کر بیٹھیں۔انہوں نے کہا کہ جب ہم نے دھرنا دیا تو ہم با ت چیت بھی کرتے تھے مگر انہوں نے آج تک کوئی مطالبہ  اسمبلی میں پیش نہیں کیا،اُنہوں نے آج تک کوئی بات ہی نہیں کی ،اگر کوئی بات چیت سے چھپتا ہے تو اس کا مطلب ہے ان کے دل میں کوئی چوری ہے،  ایسا لگتا ہے سامنے کچھ اور ہے اور پیچھے کوئی اور ہے، میرا خیال ہے مولانا صاحب کو سوچنا چاہیے، ملک کیلئے سوچنا چاہیے، اگر ان کا ایجنڈا  پاکستان ہے اورپاکستان سے محبت ہے، کشمیریوں سے محبت ہے تو بیٹھ کر بات کرنی ہوگی،  اگر ان کا ایجنڈا  افراتفری  اور ملک کو پیچھے کی طرف دھکیلنا ہے تو حکومت ایسا  ہرگز نہیں کرنے دے گی ۔انہوں نے کہا کہ اب جبکہ ملک میں حالات بہتر ہورہے ہیں، ملکی معیشت استحکام کی طرف جانب گامزن  ہے، شاید ان کو ڈر ہے کہ اگر حکومت  پانچ سال پورے کرتی ہے تو ان کیلئے کوئی جگہ  نہیں رہے گی ۔وفاقی وزیر دفاع پرویز خان خٹک نے کہا کہ میں اب بھی تمام پارٹیوں سے درخواست  کرتا ہوں کہ اگر آپ ملک کے ہمدرد ہیں، ملک سے محبت  ہے تو آئیں بیٹھ کر بات کریں  اور اگر کوئی مطالبہ ہے تو ہم ویلکم کریں گے، ہم  آپ  کے ساتھ  بیٹھنے  کیلئے ہر وقت تیار ہیں۔

میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہم نے کمیٹی بنائی ، ارکان شامل کیے کیونکہ  ہم بات چیت کیلئے مخلص ہیں،اگر یہ لوگ کسی اور کے ایجنڈے  پر چل رہے ہیں  تو سب کے سامنے آجائے گا ، پھر اللہ بھی سزا دے گا اور یہاں بھی سزا ملے گی۔انہوں نے کہا کہ  اس وقت خسارہ آدھا رہ گیا ہے، برآمدات بڑھ رہی ہیں،سب جانتے ہیں مہنگائی کیوں بڑھی ہے؟ جب ملک پاؤں پر کھڑا ہو جائے گا تو  خسارہ ختم ہو جائے گا ،آمدن سے خرچہ کم ہو جائے گا اور آمدن بڑھے گی تو لوگوں کو مراعات ملیں گی،انشاء اللہ بہت جلد پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہو نے والا ہے، معیشت بہتر ہونے والی ہے، مہنگائی خود بخود ختم  ہو جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ  بعض اوقات سخت  باتیں نکل جاتی ہیں، ہمیشہ مسائل بات چیت سے حل  ہوتے ہیں ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ہم سنجرانی صاحب کو رکھا ہے،وزیراعلیٰ بلوچستان  نے پیر کا وقت دیا ہے ، اگر وہ آتے ہیں تو وہ شامل ہو جائیں گے  اگر وہ نہیں آتے تو پھر سنجرانی  کو رکھیں گے ، میں نے ان لوگوں کو رکھا ہے جو سیاسی لوگ ہیں اور سیاسی بات سمجھتے ہیں،پرویز الٰہی کے ساتھ بھی طے ہوچکا ہے ۔اُنہوں نے  کہاکہ اگر کوئی حکومت کی رٹ کو چیلنج کرے گا تو پھر قانون اپنا راستہ بنائے گا، حکومت فیصلہ کرے گی کہ کیا کرنا ہے ؟۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کا استعفیٰ ناممکن بات ہے ،یہ چڑھائی کرنا چاہتے ہیں ،پاکستان میں ایسی چیز برداشت نہیں ہوگی،پھر ہم ایکشن لیں گے۔انہوں نے کہا کہ  اگرسپیکر ،چیئرمین سینیٹ  اور صدر بھی  بات کریں تو اس میں کیا اعتراض ہے؟  اُنہوں نے  پارلیمانی کمیٹی میں دھاندلی کی کوئی بات نہیں پیش کی،وقت ضائع نہ کریں  اگر کوئی ثبوت ہے تو سامنے لائیں، ہم ہر پارٹی کے سینئر لیڈروں سے رابطے میں ہیں اور ہمیں اچھا رسپانس مل رہا ہے، امید ہے وہ بیٹھیں  گے، اگر نہیں بیٹھیں گے تو نقصان پاکستان کا ہوگا اور پھر حکومت آرام سے نہیں بیٹھے گی،جب مذاکرات ناکام ہوگئے تو پھر اداروں نے فیصلہ کرنا ہے اور نقصان کی تمام تر ذمہ داری اپوزیشن کی ہوگی ۔

انہوں نے کہا کہ ہم  نے پیشکش  کی ہے  آگے ان کی مرضی ہے،اگر وہ  رضا مند ہوتے ہیں تو ہم  پیدل چل کر بھی ان کے پاس جانا چاہتے ہیں، ہم ملک کے بچاؤ کیلئے ہر حد تک جائیں گے،اس وقت سرحدوں پر بہت کشیدگی ہے، اگر وہ مودی کو خوش کرنا چاہتے ہیں تو بات نہیں کریں گے، اگر ملک کے ہمدرد ہیں تو بات ضرور کریں گے۔

وفاقی وزیر شفقت محمود  نے کہاکہ مجھے بطور وزیر تعلیم بڑی تشویش ہے کہ مولانا کے کچھ لوگ کوشش کررہے ہیں کہ مدارس کے بچے جو ہمارے بچے ہیں ان کو سیاست میں گھسیٹا جائے،میں گزارش کرتا ہوں کہ ایسا نہ کریں، آپ اپنی  سیاست کریں مگر بچوں کو سیاست میں نہ لائیں،مولانا فضل الرحمن  سے گزارش ہے  کہ سیاسی گفتگو تو چلتی رہتی ہے مگر اداروں پر حملہ نہ کریں،   ہم مذاکرات کیلئے تیار ہیں مگر اس قسم کی بات برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ فضل الرحمن ریاست کے ستونوں پر حملے نہ کریں ،مسلح جتھوں  کی آئین و قانون میں اجازت نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں