6

چھوٹے تاجروں کے لیے فکس ٹیکس کا نظام لائے،حکومت نے عام شہری پر بہت زیادہ بوجھ ڈال دیا:ڈاکٹر حفیظ پاشا

اسلام آباد(نمائندہ خصوصی)معروف اقتصادی ماہر اور سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا ہے کہحکومت اپنے اہداف میں کامیاب ہو رہی ہے لیکن حکومت نے ضرورت سے زیادہ ہی بوجھ ڈال دیا ہے،کھانے پینے کے اشیا کی قیمت 15 فیصد سے زیادہ بڑھ گئی ہے جس سے غریب عوام براہ راست متاثر ہو رہے ہیں،حکومت بڑے ٹیکس چوروں کو چھوڑ کر چھوٹے تاجروں کے پیچھے لگی ہوئی ہے،حکومت کو چاہیے کہ چھوٹے تاجروں کے لیے فکس ٹیکس کا نظام لائے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئےسابق وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا ہے کہحکومت کی سمت درست ہے لیکن عام شہری پر بہت زیادہ بوجھ ڈال دیا گیا ہے، کھانے پینے کے اشیا کی قیمت 15 فیصد سے زیادہ بڑھ گئی ہے جس سے غریب عوام براہ راست متاثر ہو رہے ہیں،حکومتی اقدامات کے بعد ایف بی آر کے ریونیو میں کل 15 فیصد اضافہ ہوا ہے،حکومت کے ٹیکسوں میں بے تحاشا اضافے کی وجہ سے تاجر برادری پریشان ہو گئی، حکومت کو سب سے پہلے زیادہ ٹیکس والوں کو پکڑنا چاہیے تھا کہ ان سے سو فیصد ٹیکس وصول کیا جائے اور بعد میں چھوٹے تاجروں کی طرف جایا جاتا،بڑے ٹیکس چوروں کےپیچھے حکومت کیوں نہیں جاتی جنہوں نے دبئی میں بڑی بڑی جائیداد بنا رکھی ہیں؟ان سے بڑی رقم نکلوائی جا سکتی ہے،دیگر ممالک میں چھوٹے تاجروں سےٹیکس کانظام فکس چلتا ہےاورانہیں ڈاکیومینٹیشن کی ضرورت نہیں ہوتی، چھوٹےتاجروں کواس معاملے میں نہیں الجھانا چاہیے،ایف بی آر کے فیلڈ آفیسر چھوٹے تاجروں کو زیادہ تنگ کرتے ہیں اس لیے ان کے لیے فکس ٹیکس کا نظام بہتر رہے گا،برآمدات حکومت کے بدن کا خون ہے لیکن حکومت انہیں ہی پریشان کر رہی ہے،حکومت تو چھوٹے برآمدات کو بہت تنگ کر رہی ہے، حکومت کے پاس ود ہولڈنگ ٹیکس کا نظام ہے جسے بڑھایا بھی جا سکتا ہے،حکومت کوشش یہ کرے کہ ٹیکس کا ایسا نظام لائے جو آسان ہو اور ایک پیج کا اردو زبان میں ہونا چاہیے۔

ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ سابق وزیر خزانہ اسد عمر مشاورت کرتے تھے جو ملک کے لیے بھی بہتر تھا لیکن انہیں بعد میں تبدیل کر دیا،ڈاکٹر حفیظ شیخ اور گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر نے جلدی میں ایسے اہداف لے لیے جو پورے کرنا ممکن نہیں تھا،میں سمجھتا ہوں کہ ہر دکان اور صنعتی ادارے کی ڈاکیومنٹیشن ہونی چاہیے لیکن آپ بجلی کے بل پر ویسے بھی ٹیکس وصول کرتے ہیں،صنعتی ادارے بالکل بھی فارغ نہیں ہیں وہ ٹیکس دیتے ہیں،حقیقت یہ ہے آپ نے ہر طرف سے قرض لے لیا ہے، اب آپ کے پاس ڈالر خریدنے کی گنجائش ہی نہیں ہے،اب حکومت کی کوشش ہے شرح سود بڑھا کر رکھیں جس کی وجہ سے صنعتکاروں کو مجبور کر دیا گیا ہے کہ وہ اپنی مصنوعات کو کم کر دیں،آپ کی صنعتی پیداوار گزشتہ ستمبر سے کم ہو چکی ہے جو تاحال جاری ہے،گاڑیوں کی فروخت 40 فیصد کم ہو چکی ہے جن کی بہت سے وجوہات ہیں،آئی ایم ایف کہتا ہے ایکسپورٹر کو ریفنڈ دیں لیکن حکومت نے صرف 30 فیصد ریفنڈ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا انکم ٹیکس کا نظام دنیا سے بہت مختلف ہے،ہم ود ہولڈنگ سے اپنا 70 فیصد ٹیکس وصول کرتے ہیں،ہمارا مزدور بجلی کے بل اور موبائل پر بھی ٹیکس دے رہا ہے،حکومت نے گیس کی قیمتیں بہت تیزی سے بڑھائیں جس کا سب سے زیادہ فرق زراعت پر پڑھا،یوریا کھاد کی قیمتوں پر30 فیصد اضافہ ہوا ہے،جس کی وجہ سے اس سال کپاس کی کوالٹی میں بہت کمی آئی ہے جو آپ کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی رکھتی ہے،حکومت کو چاہیے کہ گنے کی کاشت کو کم کرے جسے بہت زیادہ بڑھا دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو بلیک لسٹ کر دیا تو ملک کے باہر سے آنے والا سارا پیسہ رک جائے گا جس کی وجہ سے پاکستان کی برآمدات 50 ارب ڈالر سے 30 ارب ڈالر پر آجائیں گی اور ملک کا حال بہت برا ہو جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں