41

کالم کشمیر کے آنسو تحریر راجہ عبدالغفار

کشمیر کے آنسو
تحریر راجہ عبدالغفار
یوں تو ہر قوم آزادی کی خواہش دل میں رکھتی ہے۔ اپنی زندگی کو آزاد گزارنا چاہتی ہے۔ اپنے مذہبی رسومات کو بغیر کسی روک ٹوک کے سرانجام دینے کی خواہش دل میں رکھتی ہے۔ اس کے لیے ان اقوام عالم کی کوشش رہی ہے کہ ایک الگ اور آزاد ریاست ہو جہاں تمام تر مذہبی اقدار محفوظ ہو۔ اپنے طور طریقوں پر کاربند رہنے میں نہ کوئی چیز حائل ہو اور نہ کوئی شخص حصار بنے۔ معاشرتی اطوار ان کے طرزِ زندگی سے متصادم نہ ہو۔ کسی دوسرے کا تسلط اور جبر نہ ہو۔ ایک خوشحال اور سکون و اطمینان والا معاشرہ ہر فرد کو میسر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی نے ان اقوام عالم سے آزادی چیننے کی کوشش کی تو یہ ان کے مقابلے میں یک جان ہوگئے ۔ تحریکیں اٹھیں۔ جلوس نکالے گئے۔ عالمی برادری سے نوٹس لینے کے مطالبے کیے گئے۔ اور جب کسی نے ان کی طرف توجہ نہیں دی تو یہ اقوام تن تنہا لڑ پڑے لیکن اپنی دھرتی پر کسی کے پاؤں جمنے نہیں دیئے۔ دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ اور ایسی تاریخ رقم کر دی جو تاقیامت یاد رہے گی۔

ان جرأت مند اقوام عالم میں سے أھل کشمیر بھی ہے۔ جو خون کے چھینٹے اپنے چہروں پر لیے ہوئے نصف صدی سے دشمن کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔ ایک طرف جنازے اٹھتے ہیں اور دوسری طرف جلوس نکلتے ہیں۔ دشمن ہر قسم کے حربے استعمال کرچکا ہے ، لیکن کشمیر کی جدجہد آزادی کو پست نہ کرسکے۔ دن بدن یہ عظیم تحریک بڑھتا جا رہا ہے۔ جتنے زیادہ لوگ شھید ہوتے ہیں اتنی ہی اس تحریک میں شدت آرہی ہے۔ تحریک کا حصہ بننے والوں میں ہر عمر کے لوگ شامل ہیں۔ آزادی کا احساس معاشرے میں موجود ہر فرد کو ہوا کرتا ہے۔ فطرت سلیمہ دوسرے کے تسلط کو تسلیم نہیں کرتا ، اور اس کی زندہ مثال تحریک حریت کشمیر ہے۔
خون میں لت پت یہ نوجوان اپنی قوم کی آزادی کے لیے دن رات محنت کررہے ہیں۔ ان کے احتجاج پر اسلامی دنیا کی طرف سے صرف مذمتی بیانات جاری ہوتے ہیں۔ اسمبلیوں میں بل پیش ہوتے ہیں۔ کمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں۔ عالمی تنظیموں سے بھیگ مانگا جاتا ہے۔ کبھی ایک کے در کبھی دوسرے کے در ، در بدر ٹھوکریں کھارہے ہیں۔ یہ مسلم حکمران جن کے گلے میں دوسروں کا گنگرو لٹک رہا ہے ، غیرت و حمیت نام کی کسی چیز سے آشنا نہیں ۔ کشمیر کا مسئلہ مذاکرات سے حل نہیں ہوسکتا ، وہ بھارت جو بار بار جنگ چیڑنے کی کوشش کررہا ہے ، ان کے سامنے مذاکرات کی بات کرنا بھینس کے آگے بھین بجانے کے مترادف ہے۔

نہ تو عالمی تنظیموں نے اس طرف توجہ دی ہے اور دے گا بھی نہیں ۔ صرف اس لیے کہ یہ اھل کشمیر مسلمان ہیں۔ عالمی کفر کی دین دشمنی کے پاٹ میں اھل کشمیر پس رہے ہیں۔ اسلامی دنیا کو ہوش کے ناخن لینے ہوں گے۔ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونا پڑے گا۔ ایک دوسرے کے دست و بازو بننا پڑے گا۔ ورنہ عالمی کفر جس نے کئی طرف سے امت مسلمہ کو گھیرا ہوا ہے ، ان مسلمانوں پر ظلم و جبر کی داستان رقم کرتا رہے گا اور مسلم حکمران ان کے غلام رہ کر ان سامنے سجدہ ریز ہوتے رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں