95

ڈی جی سیمنٹ فیکٹری , افسوس کی بات یہ ھے کے ان میں مقامی افراد کو مناسب روزگار نہیں ملتا

👈👈ڈی جی سیمنٹ فیکٹری , افسوس کی بات یہ ھے کے ان میں مقامی افراد کو مناسب روزگار نہیں ملتا, چوکیدار, مالی، جیسا کے ان کا حق ہی نہیں, اس کے علاوہ جو کہ یہ انڈسٹری علاقے میں آلودگی پہیلا رہی ہے جن سے کئی امراض جنم لے رھے ہیں, اور ڈی جی منیجمنٹ کی جانب سے ماحولیاتی آلودگی کو کنٹرول کرنے کا کوئی قانونی بندوبست نہیں ھے, اور ڈی جی سیمینٹ کمپنی کی جانب سے قدیمی رہائش گاہوں کے قریب پھاڑوں میں پتھر نکالنے کے لیۓ بلاسٹنگ کی جاتی ھے, جس سے نا صرف آلودگی پھیل رہی ھے بلکہ زوردار دھماکوں سے کئی گھروں میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں, بلاسٹنگ اتنی شدید ہوتی ھے کے بزرگ, بیمار, حاملہ عورتیں اور چھوٹے بچوں کے لیۓ کافی نقصانکار ثابت ہورہی ھے, اس کے علاوہ ڈی جی سیمنٹ نے اس اہل علاقے کے آس پاس کے علاقوں میں قانونی طور پر تعلیم, صحت اور انوائرمینٹ کے لیۓ کوئی کام نہیں کیا جاتا اور ناہی اس ضمن میں فنڈز استعمال ہوتے ہیں, مقامی ملازمین کو بھی کوئی اھمیت نہیں دی جاتی, نا میڈیکل کی سھولت, حادثات میں جانی نقصان پر بھی کوئی واضع پالیسی نہیں, مطلب یہ کے اندھیر نگری چربٹ راج لگا ھوا ھے, دوسرے صوبوں سے لاۓ گۓ ملازمین اھم پوسٹوں پر لگایا جاتا ھے, تمام مراعات دی جاتی ہیں, جبکہ مقامی ملازمین کو کسی بھی قسم کی مراعات نہیں دی جاتی, کسی بھی قسم بھی قانون کی پاسداری نہیں کی جاتی اور مکمل طور پر لیبر قانون کی خلاف ورزی کی جارہی ھے،، لیکن کوئی بھی پوچھنے والا نہیں, دیکھا جاۓ تو اس علاقہ کے ھر دوسرے گھر میں سیاسی و سماجی لیڈرز رہتے ہیں جو ھمیشہ عوامی ھمدری اور خدمت پر یقین رکھنے کے دعوے کرتے نہیں تھکتے لیکن افسوس کے ان اھم اشوز پر ان کی بھی پراسرار خاموشی ھے, جو سمجھ سے باھر ھے, عوام نے لیبر یونین حاجی عزیز کھوسہ اور رحیم بخش کھوفلی بلوچ سے پرزور مطالبہ کیا ھے کے یہاں کے نزدیکی باسیوں بیروزگار نوجوانوں کو روزگار دلایا جاۓ اور جو ملازمین کام کر رھے ہیں ان کو تمام مراعات اور حقوق دلاۓ جائیں جو ان کا بنیادی حق ھے, اس کے علاوہ ڈی جی سیمنٹ کے دیگر تمام منتخب نمائندوں سے بھی یہی گذارش ھے کے بیروزگاری سب سے اھم اشو ھے اس کو ترجیھی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی جاۓ,
جب یہ فیکٹری لگ رھی تھی تو اھل علائقہ میں خوشی کی لھر دوڑ گئی کہ ھمارے علائقے کی ترقی ھوگی وقت کے ساتھ ساتھ جب سے یہ میاں منشاء صاحب کے نام ہونے پر یہ فیکٹری علائقہ مکینوں کے لیئے وبال جان بن گئی ھے
فیکٹری کا زھریلا دھواں 15کلومیٹر چاروں اور پھیلتا ھے جس سے لوگوں میں چمڑی(Skin) دمہ (Asthma) جیسی موزی بیماریاں تیزی سے پھیل رھی ھیں جب کہ پورے متاثرہ علائقہ میں کوئی سرکاری بیسک ھیلتھ یونٹ ڈسپینسری ھسپتال وغیرہ نھیں ھے, انسانوں کے ساتھ جانور, جنگلی حیوانات کی نسل کشی ھو رھی ھے, کتنے نایاب قسم کے جانوروں کا نسل بلکل ختم ھوچکا ھے,
علائقہ مکینوں نے وزیر اعلئ پنجاب جناب سردار عثمان خان بزدار صاحب سے , ڈی جی انوائرمینٹ و دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتے ھیں کہ ھمارے علائقے کو اس تباھی سے بچایا جائے اور علائقے کے لوگون کو روزگار صحت سمیت بنیادی حقوق دلائے جائیں, فیکٹری انتظامیا کو پابند کیا جائے کہ دھوان کنٹرول کریں بم بلاسٹ کو چھوٹے پئمانے پر کریں تاکہ گھروں کو نقصان نہ ھو ھمیں امید ھے ھمارے اس جائز مسئلے پر ھمارے حکمران سنجیدگی سے نوٹس لینگے. شکریہ


اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں